مُصنّفہ: زینب ہاشمی ✨
╔═══ஓ๑♡๑ஓ═══╗
✨ تُم اور میں ✨
(Part #1)
╚═══ஓ๑♡๑ஓ═══╝
Dedicated to:
" [Aamir Bilal], for your unwavering support and belief in me."
باب اول
سجدے میں بچھڑ جانے والا سایہ
بعض حادثات شور نہیں کرتے۔
وہ خاموشی سے آتے ہیں، انسان کی روح میں اتر جاتے ہیں اور پھر پوری زندگی کو ایک ایسی داستان میں بدل دیتے ہیں جس کا ہر صفحہ آنسوؤں سے لکھا جاتا ہے۔
عامر بلال کی زندگی بھی ایک ایسی ہی داستان تھی۔
چھبیس برس کا عامر بلال ایک متوسط گھرانے سے تعلق رکھنے والا وہ نوجوان تھا جس کے خواب آسمان سے بلند اور حالات زمین سے زیادہ سخت تھے۔
اس کے والد عمر بلال ایک باوقار، دیانت دار اور خدا ترس انسان تھے۔ ان کی زندگی کی کل کمائی ان کی اولاد تھی۔
چار بیٹے
ایک بیٹی۔
اور ان سب میں دوسرے نمبر پر عامر بلال۔
وہ صرف بیٹا نہیں تھا بلکہ اپنے والد کی آنکھوں کی روشنی بھی تھا۔
مگر تقدیر کو شاید کچھ اور ہی منظور تھا۔
وہ دن عامر کبھی نہیں بھول سکتا تھا۔
اس کا سب سے قریبی دوست، جسے وہ اپنا محرمِ راز سمجھتا تھا، اس کی زندگی کا سب سے بڑا دھوکہ بن چکا تھا۔
جس شخص کے ساتھ اس نے برسوں کی رفاقت نبھائی تھی، اسی نے اس کے اعتماد کو خنجر کی طرح چیر ڈالا تھا۔
جھوٹے الزامات۔
بے بنیاد کہانیاں۔
اور کردار کشی کے ایسے تیر جو سیدھا اس کی عزت پر لگے تھے۔
اس شام جب یہ تمام باتیں عمر بلال کے کانوں تک پہنچیں تو ان کے صبر کا بندھن ٹوٹ گیا۔
"عامر!"
ان کی آواز گھر کی دیواروں سے ٹکرا کر گونج اٹھی۔
عامر ڈرائنگ روم میں داخل ہوا۔
"جی ابو؟"
عمر بلال کے چہرے پر غصے کی سرخی نمایاں تھی۔
"کیا یہ سب سچ ہے؟"
عامر حیران رہ گیا۔
"کون سی بات، ابو؟"
"مجھ سے معصوم بننے کی کوشش مت کرو!"
عمر بلال نے سخت لہجے میں کہا۔
"ابو، خدا کی قسم میں—"
اچانک ایک زور دار تھپڑ اس کے رخسار پر پڑا۔
کمرے میں موجود ہر فرد ساکت ہو گیا۔
عامر کی گردن ایک طرف جھک گئی۔
اس کے کانوں میں سنسناہٹ گونجنے لگی۔
مگر اس سے زیادہ درد اسے اپنے دل میں محسوس ہوا۔
وہ آہستہ سے بولا،
"ابو... میری بات تو سن لیجیے۔"
عمر بلال نے چہرہ پھیر لیا۔
"مجھے تم سے یہ امید نہیں تھی۔"
یہ الفاظ تھپڑ سے کہیں زیادہ تکلیف دہ تھے۔
عامر خاموشی سے اپنے کمرے میں چلا گیا۔
اس رات اس نے پہلی بار محسوس کیا کہ جب اعتماد ٹوٹتا ہے تو آواز نہیں کرتا، مگر روح کو زخمی ضرور کر دیتا ہے۔
چند روز بعد سچائی سامنے آ گئی۔
دوست کا جھوٹ بے نقاب ہو گیا۔
ہر الزام غلط ثابت ہوا۔
اور وہ شخص جس نے عامر کو رسوا کرنے کی کوشش کی تھی، خود رسوا ہو گیا۔
شام ڈھل رہی تھی۔
مغرب کی اذان فضا میں بکھر رہی تھی۔
عامر گھر کے دروازے پر پہنچا تو سامنے عمر بلال کھڑے تھے۔
ان کی آنکھوں میں نمی تھی۔
چہرے پر پشیمانی تھی۔
اور دل میں ایک باپ کی ٹوٹ پھوٹ۔
"عامر..."
ان کی آواز لرز گئی۔
عامر خاموش رہا۔
عمر بلال آہستہ آہستہ اس کے قریب آئے۔
"بیٹا... مجھے معاف کر دو۔"
عامر کی پلکوں پر آنسو لرزنے لگے۔
"ابو، آپ معافی کیوں مانگ رہے ہیں؟"
عمر بلال کی آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے۔
"اس لیے کہ میں نے اپنے بیٹے کی بات سنے بغیر فیصلہ کر لیا۔"
عامر نے آگے بڑھ کر ان کے ہاتھ تھام لیے۔
"آپ میرے باپ ہیں۔ آپ کا حق ہے مجھ پر۔"
عمر بلال نے اسے سینے سے لگا لیا۔
"مجھے تم پر فخر ہے، عامر۔"
عامر کی آنکھیں بند ہو گئیں۔
کاش وہ جانتا کہ یہ الفاظ آخری بار سن رہا ہے۔
رات گہری ہو چکی تھی۔
گھر کے تمام افراد اپنے کمروں میں جا چکے تھے۔
عمر بلال اپنے کمرے میں نمازِ عشاء ادا کر رہے تھے۔
ان کے لب ذکرِ الٰہی سے معطر تھے۔
پیشانی سجدے میں جھکی ہوئی تھی۔
"یا اللہ..."
ان کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے۔
"میرے بچوں کو اپنی امان میں رکھنا۔"
یہ ان کی آخری دعا تھی۔
ان کی آخری التجا۔
اور ان کی آخری سانس بھی۔
کچھ دیر بعد عامر کی والدہ کمرے میں داخل ہوئیں۔
"عمر صاحب؟"
خاموشی۔
"عمر صاحب؟"
پھر بھی کوئی جواب نہ آیا۔
وہ قریب آئیں۔
اور اگلے ہی لمحے ان کی روح جیسے جسم سے نکل گئی۔
"عمررررر!"
ان کی دل دہلا دینے والی چیخ پورے گھر میں گونج اٹھی۔
تمام بچے دوڑتے ہوئے اندر آئے۔
عامر سب سے آگے تھا۔
اس نے اپنے والد کو دیکھا۔
وہ اب بھی سجدے میں تھے۔
مگر اس سجدے سے واپسی ممکن نہیں تھی۔
عامر کے ہاتھ کانپنے لگے۔
"ابو..."
اس کی آواز ٹوٹ گئی۔
"ابو... اٹھیں نا۔"
اس نے اپنے والد کے کندھے ہلائے۔
"ابو... پلیز۔"
مگر موت کسی کی منت نہیں سنتی۔
عامر ان کے سینے سے لگ کر پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا۔
اس رات ایک باپ دنیا سے گیا تھا۔
مگر ساتھ ہی ایک بیٹے کی بے فکری بھی دفن ہو گئی تھی۔
پانچ بیٹوں اور ایک بیٹی کے سر سے سایہ اٹھ چکا تھا۔
اور عامر بلال کی زندگی کا سب سے کڑا باب شروع ہو چکا تھا۔
وہ نہیں جانتا تھا کہ آنے والے دن اسے کہاں لے جائیں گے۔
جہاں اسے نئے لوگ ملیں گے۔
نئی آزمائشیں ملیں گی۔
نئی محبتیں۔
نئی جدائیاں۔
اور شاید...
کوئی ایسا شخص بھی ملے گا جو اس کی بکھری ہوئی روح کو دوبارہ جوڑنے کی کوشش کرے گا۔
مگر فی الحال...
وہ صرف ایک بیٹا تھا۔
باب دوم
چھت پر بکھرے خواب
وقت کبھی کسی کے لیے نہیں رکتا۔
عمر بلال کی وفات کے بعد عامر بلال نے زندگی کو ایک نئے زاویے سے دیکھنا شروع کر دیا تھا۔
اب خوابوں سے زیادہ ذمہ داریاں اس کی آنکھوں میں رہتی تھیں۔
اپنی والدہ، بھائیوں اور بہن کی فکر اس کے دل پر ہر وقت دستک دیتی رہتی تھی۔
اسی فکر کو سینے میں دبائے وہ اسلام آباد کی ایریڈ ایگریکلچر یونیورسٹی کے ہاسٹل میں اپنی زندگی گزار رہا تھا۔
دن میں کلاسز۔
شام میں ملازمت۔
اور راتوں میں کتابوں سے جنگ۔
یہی اس کی زندگی تھی۔
اس رات بھی ہاسٹل کی چھت پر ٹھنڈی ہوا چل رہی تھی۔
اسلام آباد کی روشنیاں دور ستاروں کی مانند جھلملا رہی تھیں۔
عامر بلال دیوار سے ٹیک لگائے بیٹھا تھا۔
اس کے ساتھ اس کا سب سے قریبی دوست فیروز خان بھی موجود تھا۔
فیروز نے چائے کا کپ اس کی طرف بڑھایا۔
"لے یار، آج تو بڑا خاموش لگ رہا ہے۔"
عامر نے کپ تھاما اور ہلکی سی مسکراہٹ دی۔
"کچھ نہیں۔"
فیروز ہنس پڑا۔
"عامر بلال اور کچھ نہیں؟ یہ جھوٹ تو خود بھی مت بولا کر۔"
عامر نے آسمان کی طرف دیکھا۔
"کبھی کبھی ابو بہت یاد آتے ہیں۔"
فیروز کی مسکراہٹ دھیرے دھیرے ماند پڑ گئی۔
"آج پھر یاد آ رہے ہیں؟"
"ہر روز آتے ہیں۔ بس کچھ دن زیادہ آتے ہیں۔"
چند لمحوں کی خاموشی چھا گئی۔
پھر فیروز آہستہ سے بولا،
"اگر وہ آج زندہ ہوتے تو تم پر فخر کرتے۔"
عامر کے ہونٹوں پر ایک تلخ مسکراہٹ ابھری۔
"شاید۔"
"شاید نہیں، یقیناً۔"
فیروز نے مضبوط لہجے میں کہا۔
"تم اکیلے پورے گھر کی فکر کرتے ہو۔ پڑھائی بھی کرتے ہو، نوکری بھی کرتے ہو۔ ہر کوئی ایسا نہیں کر سکتا۔"
عامر نے نظریں جھکا لیں۔
"کبھی کبھی لگتا ہے بہت تھک گیا ہوں۔"
فیروز نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا۔
"تھک جانا کمزوری نہیں ہوتی، ہار مان لینا کمزوری ہوتی ہے۔"
اسی دوران عامر کا فون بج اٹھا۔
اسکرین پر "امی جان" لکھا ہوا تھا۔
اس نے فوراً کال اٹھائی۔
"السلام علیکم امی۔"
"وعلیکم السلام بیٹا۔"
والدہ کی آواز سن کر عامر کے چہرے پر نرمی آ گئی۔
"کیسی ہیں آپ؟"
"میں ٹھیک ہوں، تم اپنا خیال رکھا کرو۔"
"جی امی۔"
"وقت پر کھانا کھا لیا کرو۔ ہر بار فون کرتی ہوں تو یہی سنتی ہوں کہ مصروف تھا۔"
عامر ہلکا سا ہنس پڑا۔
"امی، کوشش کرتا ہوں۔"
والدہ کی آواز بھرائی ہوئی تھی۔
"تمہارے ابو ہوتے تو آج تمہیں دیکھ کر بہت خوش ہوتے۔"
عامر کی پلکیں جھک گئیں۔
"امی..."
"بیٹا، خود کو تنہا مت سمجھنا۔ اللہ تمہارے ساتھ ہے۔"
"جی امی۔"
کال ختم ہوئی تو چند منٹ بعد بڑے بھائی کا فون آ گیا۔
"عامر، کیسے ہو؟"
"الحمدللہ بھائی۔"
"گھر کے خرچے اس مہینے کچھ زیادہ ہیں۔"
عامر خاموش ہو گیا۔
اسے پہلے ہی اندازہ تھا۔
"کتنے پیسے چاہییں؟"
"جتنا ہو سکے بھیج دینا۔"
عامر نے گہرا سانس لیا۔
اس کی جیب تقریباً خالی تھی۔
لیکن اس نے ہمیشہ کی طرح کہا،
"فکر نہ کریں بھائی، انتظام ہو جائے گا۔"
کال ختم ہونے کے بعد فیروز نے پوچھا،
"پھر گھر کی فکر؟"
عامر نے ہلکی سی مسکراہٹ دی۔
"گھر کی فکر ختم ہو جائے تو شاید سانس لینا بھی بھول جاؤں۔"
فیروز نے قہقہہ لگایا۔
"ایک دن بہت بڑا آدمی بنے گا تو یہ سب دن یاد کرے گا۔"
عامر نے دور آسمان کی طرف دیکھا۔
"مجھے بڑا آدمی نہیں بننا۔"
"پھر کیا بننا ہے؟"
"بس اپنی ماں کے چہرے کی پریشانیاں ختم کرنا چاہتا ہوں۔"
فیروز خاموش ہو گیا۔
کیونکہ اس خواہش سے زیادہ خوبصورت کوئی خواب نہیں تھا۔
چار سال گزر گئے۔
عامر بلال نے بائیو کیمسٹری میں گریجویشن مکمل کر لی۔
ڈگری ہاتھ میں تھی۔
مگر زندگی کی آزمائشیں ابھی باقی تھیں۔
کئی مہینوں تک وہ نوکری کی تلاش میں دربدر پھرتا رہا۔
آخرکار ایک نجی اسکول میں اسے بطور استاد ملازمت مل گئی۔
پہلے دن وہ پرنسپل کے دفتر کے سامنے کھڑا تھا۔
دروازہ کھلا۔
"آئیے، مسٹر عامر۔"
پرنسپل صاحب نے کہا۔
عامر اندر داخل ہوا۔
"سر، السلام علیکم۔"
"وعلیکم السلام۔ بیٹھ جائیے۔"
پرنسپل نے اس کی فائل دیکھی۔
"آپ کے پاس تجربہ تو زیادہ نہیں ہے۔"
"جی سر۔"
"پھر بھی ہم آپ کو ایک موقع دے رہے ہیں۔"
عامر نے فوراً کہا،
"میں اپنی پوری کوشش کروں گا۔"
پرنسپل نے سنجیدگی سے اسے دیکھا۔
"یہاں کوشش نہیں، نتائج چاہیے ہوتے ہیں۔"
عامر نے سر جھکا دیا۔
"جی سر۔"
اسکول کے اسٹاف روم میں اس کا پہلا دن آسان نہیں تھا۔
چند اساتذہ نے رسمی مسکراہٹ دی۔
چند نے سرسری سلام کیا۔
اور چند نے اسے مکمل طور پر نظر انداز کر دیا۔
ایک سینئر ٹیچر بولیں،
"نئے آئے ہیں؟"
"جی۔"
"پہلے چند مہینے بہت مشکل گزریں گے۔"
عامر مسکرا دیا۔
"مشکل دنوں کا تو کافی تجربہ ہے۔"
خاتون استاد حیرت سے اسے دیکھنے لگیں۔
"اچھا جواب دیتے ہیں آپ۔"
دن گزرتے گئے۔
تنخواہ کم تھی۔
کام زیادہ تھا۔
کبھی پرنسپل ڈانٹ دیتے۔
کبھی اضافی کلاسز دے دی جاتیں۔
کبھی چھٹی کے دن بھی اسکول بلایا جاتا۔
ایک شام پرنسپل نے سخت لہجے میں کہا،
"مسٹر عامر، یہ رزلٹ قابل قبول نہیں۔"
"سر، بچوں نے پوری کوشش کی ہے۔"
"مجھے کوشش نہیں، نمبر چاہیے۔"
عامر خاموش رہا۔
وہ جانتا تھا بعض اوقات خاموشی سب سے بہتر جواب ہوتی ہے۔
اسی رات وہ دوبارہ ہاسٹل کی چھت پر بیٹھا تھا۔
اب وہ گریجویٹ ہو چکا تھا مگر حالات پہلے جیسے ہی تھے۔
فیروز نے پوچھا،
"کیسا جا رہا ہے استاد صاحب؟"
عامر ہنس پڑا۔
"استاد کم، مزدور زیادہ لگتا ہوں۔"
"چھوڑ دو نوکری۔"
فیروز نے کہا۔
عامر نے فوراً سر ہلا دیا۔
"گھر والے مجھ سے امید لگائے بیٹھے ہیں۔"
"اور تم؟"
فیروز نے سوال کیا۔
"تم خود سے کیا امید رکھتے ہو؟"
عامر چند لمحے خاموش رہا۔
پھر آہستہ سے بولا،
"مجھے نہیں معلوم۔"
"مگر اتنا جانتا ہوں کہ رک نہیں سکتا۔"
فیروز مسکرا دیا۔
"پھر مت رکو۔"
عامر نے آسمان کی طرف دیکھا۔
وہی آسمان جس کے نیچے کبھی اس کے والد نے اس کے لیے دعائیں مانگی تھیں۔
اور شاید...
وہ دعائیں آج بھی اس کے سفر کی محافظ تھیں۔
باب سوم
رفاقت کے چراغ
بعض لوگ خون کے رشتے نہیں ہوتے، مگر روح کے اتنے قریب ہوتے ہیں کہ ان کی موجودگی زندگی کی تمام تلخیوں کو سہنے کا حوصلہ دے دیتی ہے۔
فیروز خان بھی عامر بلال کی زندگی میں ایسا ہی ایک شخص تھا۔
وقت گزر رہا تھا۔
عامر بلال نجی اسکول میں تدریس کے فرائض انجام دے رہا تھا۔
کم تنخواہ، طویل اوقاتِ کار اور ذمہ داریوں کا پہاڑ۔
مگر اس کے باوجود وہ ہر صبح اپنے چہرے پر ایک مصنوعی مسکراہٹ سجا کر اسکول پہنچ جاتا۔
کیونکہ بعض اوقات انسان خوش ہونے کے لیے نہیں، دوسروں کو مایوس نہ کرنے کے لیے مسکراتا ہے۔
ایک صبح وہ اسٹاف روم میں بیٹھا طلبہ کی کاپیاں چیک کر رہا تھا کہ اچانک دروازہ کھلا۔
پرنسپل صاحب کے ساتھ ایک شناسا چہرہ اندر داخل ہوا۔
عامر نے سر اٹھایا۔
اور اگلے ہی لمحے اس کے لبوں پر حقیقی مسکراہٹ ابھر آئی۔
"فیروز؟"
فیروز خان ہنس پڑا۔
"کیوں؟ بھوت دیکھ لیا ہے کیا؟"
عامر فوراً اپنی کرسی سے اٹھا۔
"تم یہاں کیا کر رہے ہو؟"
"وہی جو تم کر رہے ہو۔"
"مطلب؟"
"آج سے میں بھی اس اسکول کا استاد ہوں۔"
عامر چند لمحے اسے دیکھتا رہا۔
پھر دونوں بے اختیار گلے مل گئے۔
کئی برسوں بعد شاید پہلی مرتبہ عامر کو محسوس ہوا کہ زندگی نے اس سے کچھ چھینا ہی نہیں، کچھ دیا بھی ہے۔
دوپہر کے وقفے میں دونوں اسکول کے لان میں بیٹھے تھے۔
فیروز چائے کی چسکی لیتے ہوئے بولا،
"تو استادِ محترم، اب ہم دونوں ایک ہی کشتی کے مسافر ہیں۔"
عامر ہلکا سا مسکرایا۔
"فرق صرف اتنا ہے کہ میری کشتی پہلے ہی سوراخوں سے بھری ہوئی تھی۔"
فیروز نے قہقہہ لگایا۔
"اور اب میں بھی اس میں سوار ہو گیا ہوں۔"
"ہاں، اب ڈوبیں گے تو اکٹھے۔"
دونوں ہنس پڑے۔
مگر اس ہنسی کے پیچھے زندگی کے ہزاروں درد پوشیدہ تھے۔
کئی ہفتے گزر گئے۔
اب اسکول کے ہر کونے میں دونوں کی دوستی مشہور ہو چکی تھی۔
صبح اکٹھے آنا۔
کلاسز لینا۔
طلبہ کے مسائل حل کرنا۔
اور پھر شام کو دیر تک اسکول میں بیٹھ کر اگلے دن کی تیاری کرنا۔
ایک روز شام کے وقت جب پورا اسکول تقریباً خالی ہو چکا تھا، فیروز نے فائل بند کرتے ہوئے کہا،
"یار عامر، کبھی سوچا تھا زندگی ہمیں یہاں لے آئے گی؟"
عامر کھڑکی سے باہر ڈوبتے سورج کو دیکھ رہا تھا۔
"میں نے تو بہت کچھ سوچا تھا۔"
"پھر؟"
"زندگی نے کچھ اور ہی لکھ رکھا تھا۔"
فیروز خاموش ہو گیا۔
"ابو یاد آتے ہیں؟"
عامر کے چہرے پر ایک دردناک سکون اتر آیا۔
"ہر دن۔"
"اتنے سال گزر گئے۔"
"بعض جدائیاں وقت سے نہیں بھرتیں، فیروز۔"
اس کی آواز دھیمی ہو گئی۔
"وہ صرف انسان کے اندر مستقل رہائش اختیار کر لیتی ہیں۔"
اسی دوران عامر کا فون بج اٹھا۔
اسکرین پر "امی جان" لکھا ہوا تھا۔
"السلام علیکم امی۔"
"وعلیکم السلام بیٹا۔"
والدہ کی آواز میں ہمیشہ کی طرح شفقت تھی۔
"کیسا ہے میرا بیٹا؟"
"الحمدللہ امی۔"
"تھک جاتا ہوگا نا؟"
عامر چند لمحے خاموش رہا۔
"تھک جاتا ہوں امی۔"
"پھر بھی کبھی شکایت نہیں کرتا۔"
عامر کی آنکھیں نم ہو گئیں۔
"اگر میں شکایت کروں تو آپ پریشان ہو جائیں گی۔"
دوسری طرف خاموشی چھا گئی۔
پھر والدہ آہستہ سے بولیں،
"اللہ تمہیں کامیاب کرے، بیٹا۔"
عامر نے آنکھیں بند کر لیں۔
اسے محسوس ہوا جیسے ماں کی دعا اس کے تھکے ہوئے دل پر مرہم رکھ رہی ہو۔
کال ختم ہوئی تو فیروز نے مسکراتے ہوئے کہا،
"ماں کی دعا جیسی کوئی چیز نہیں ہوتی۔"
عامر نے سر ہلایا۔
"سچ کہا تم نے۔"
"تمہاری امی تم پر بہت فخر کرتی ہیں۔"
عامر کی نظریں جھک گئیں۔
"میں ابھی اس قابل نہیں ہوا۔"
فیروز فوراً بولا،
"نہیں عامر، تم خود کو کم سمجھتے ہو۔"
"اور تم مجھے زیادہ۔"
"کیونکہ میں تمہیں جانتا ہوں۔"
ایک روز پرنسپل نے تمام اساتذہ کا اجلاس بلایا۔
کانفرنس روم میں تمام اسٹاف موجود تھا۔
پرنسپل نے سنجیدہ لہجے میں کہا،
"اسکول کے نتائج بہتر ہونے چاہئیں۔"
ایک استاد بول اٹھے،
"سر، وسائل محدود ہیں۔"
"بہانے نہیں چاہئیں۔"
پرنسپل نے سختی سے کہا۔
کمرے میں خاموشی چھا گئی۔
تب عامر آہستہ سے بولا،
"سر، اگر ہمیں کچھ اضافی تعلیمی سہولیات مل جائیں تو نتائج مزید بہتر ہو سکتے ہیں۔"
پرنسپل نے اسے غور سے دیکھا۔
"آپ سمجھتے ہیں کہ مسئلہ صرف وسائل کا ہے؟"
عامر نے مؤدبانہ لہجے میں جواب دیا،
"نہیں سر، مسئلہ محنت کا بھی ہے۔ اور ہم اپنی پوری محنت کر رہے ہیں۔"
کمرے میں بیٹھے کئی اساتذہ پہلی بار متاثر ہوئے۔
کیونکہ عامر نے شکایت نہیں کی تھی۔
اس نے حل پیش کیا تھا۔
اجلاس کے بعد فیروز نے راہداری میں چلتے ہوئے کہا،
"یار، تم میں عجیب حوصلہ ہے۔"
عامر ہنس پڑا۔
"کہاں؟"
"اتنی مشکلات کے بعد بھی تمہارے لہجے میں تلخی نہیں آتی۔"
عامر چند لمحے خاموش رہا۔
پھر آہستہ سے بولا،
"تلخی انسان کو اندر سے کھوکھلا کر دیتی ہے، فیروز۔"
"اور درد؟"
فیروز نے پوچھا۔
عامر کی نظریں دور کہیں کھو گئیں۔
"درد اگر برداشت کر لیا جائے تو انسان کو مضبوط بنا دیتا ہے۔"
فیروز خاموش ہو گیا۔
کیونکہ بعض جملے کتابوں سے نہیں، زخموں سے جنم لیتے ہیں۔
اس شام جب دونوں اسکول سے باہر نکلے تو سورج غروب ہو رہا تھا۔
سنہری روشنی سڑک پر بکھری ہوئی تھی۔
دونوں خاموشی سے چل رہے تھے۔
فیروز نے اچانک کہا،
"ایک دن ہم کامیاب ہوں گے۔"
عامر مسکرایا۔
"ان شاء اللہ۔"
"اور اس دن ہم ان سب مشکل دنوں پر ہنسیں گے۔"
عامر نے آسمان کی طرف دیکھا۔
"شاید۔"
پھر اس نے دل ہی دل میں اپنے مرحوم والد کو یاد کیا۔
اور سوچا...
کاش وہ آج زندہ ہوتے۔
کاش وہ دیکھ پاتے کہ ان کا بیٹا ابھی ٹوٹا نہیں تھا۔
وہ اب بھی لڑ رہا تھا۔
اپنی قسمت سے۔
اپنی محرومیوں سے۔
اور ان خوابوں کے لیے جنہیں اس نے اپنے والد کی قبر پر کھڑے ہو کر زندہ رکھنے کا وعدہ کیا تھا۔
باب سوم
ایک نظر، ایک احساس
کچھ لمحے زندگی میں ایسے آتے ہیں جو بظاہر بہت معمولی ہوتے ہیں، مگر دل کے کسی خاموش کونے میں ہمیشہ کے لیے محفوظ ہو جاتے ہیں۔
وہ دن بھی ایسا ہی تھا۔
اسکول کی راہداریوں میں نئے دن کی مصروفیت تھی۔ طلبہ کی آوازیں، قدموں کی چاپ اور کلاس رومز کے کھلتے بند ہوتے دروازے ایک نئے سفر کی ابتدا کا اعلان کر رہے تھے۔
اسی ہجوم میں ایک نئی طالبہ داخل ہوئی۔
نام تھا زہرا جبین۔
سترہ، اٹھارہ برس کی ایک خاموش طبیعت لڑکی، جس کے ہاتھوں میں کتابیں اور آنکھوں میں نئے ماحول کی جھجک تھی۔
یہ اس کا پہلا دن تھا۔
وہ راستہ تلاش کرتے ہوئے ایک لمحے کے لیے رک گئی۔
سامنے سے فیروز خان آ رہے تھے۔
فیروز اردو کے استاد تھے اور طلبہ سے ہمیشہ شفقت سے بات کرتے تھے۔
زہرا نے آہستہ سے کہا:
"سر...؟"
فیروز رک گئے۔
"جی بیٹا؟"
"مجھے اپنی کلاس کے بارے میں پوچھنا تھا۔"
فیروز نے مسکرا کر پوچھا:
"آپ نئی طالبہ ہیں؟"
"جی سر، آج ہی آئی ہوں۔"
فیروز نے اس کا شیڈول دیکھا۔
"آپ کی پہلی کلاس کیمسٹری کی ہے۔"
"جی سر۔"
"عامر بلال سر پڑھاتے ہیں۔۔"
زہرا نے ادب سے سر ہلایا۔
"شکریہ سر۔"
فیروز نے جاتے جاتے کہا:
"اور ہاں، کوئی مسئلہ ہو تو بلا جھجھک پوچھ لینا۔"
"جی سر۔"
کلاس روم کا دروازہ بند تھا۔
اندر سے ایک پرسکون آواز آ رہی تھی۔
زہرا نے ایک لمحہ رک کر دروازے پر ہاتھ رکھا۔
پھر آہستہ سے دروازہ کھولا۔
اور جیسے ہی اس کی نظر اندر گئی...
وقت جیسے ایک لمحے کے لیے تھم گیا۔
سامنے بورڈ کے قریب کھڑے تھے عامر بلال۔
ہاتھ میں مارکر، سامنے کیمسٹری کا سبق، اور لہجے میں وہ ٹھہراؤ جو کسی تجربہ کار انسان کی پہچان ہوتا ہے۔
زہرا کی نظریں بے اختیار ان کے چہرے پر رک گئیں۔
ہلکی بھوری آنکھیں۔
سیاہ بال۔
سادہ مگر پُرسکون شخصیت۔
ان پلکوں میں ایک عجیب سا اطمینان تھا۔
زہرا کو خود بھی معلوم نہ ہوا کہ وہ چند لمحوں کے لیے کیوں خاموش ہو گئی۔
اسے محسوس ہوا جیسے وہ کسی خیال میں قید ہو گئی ہو۔
مگر اگلے ہی لمحے عامر بلال کی آواز نے اسے حقیقت میں واپس لے آیا۔
"جی، آپ نئی طالبہ ہیں؟"
زہرا فوراً چونکی۔
"جی سر... معذرت۔"
عامر نے نرم لہجے میں کہا:
"کوئی بات نہیں۔ اندر آ جائیں۔"
"جی سر۔"
وہ خاموشی سے آگے بڑھی اور پہلی قطار میں بیٹھ گئی۔
عامر بلال نے لیکچر جاری رکھا۔
"کسی بھی علم کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ ہم صرف الفاظ نہ پڑھیں بلکہ ان کے پیچھے موجود حقیقت کو جانیں۔"
زہرا خاموشی سے سنتی رہی۔
آج پہلی بار اسے محسوس ہوا کہ پڑھانے والے انسان کی شخصیت بھی علم کا حصہ بن جاتی ہے۔
کلاس ختم ہوئی۔
طلبہ آہستہ آہستہ باہر جانے لگے۔
زہرا اپنی نوٹ بک لے کر کھڑی رہی۔
عامر بلال نے پوچھا:
"جی؟ کوئی سوال ہے؟"
زہرا نے جھجھکتے ہوئے کہا:
"سر، ایک چیز سمجھ نہیں آئی۔"
"پوچھیے۔"
اس نے نوٹ بک کھولی۔
"یہ والا فارمولا... اسے ہم کہاں استعمال کرتے ہیں؟"
عامر بلال نے بورڈ کی طرف دیکھا۔
"اچھا سوال ہے۔"
پھر انہوں نے تفصیل سے سمجھانا شروع کیا۔
"دیکھیے، صرف یاد کر لینا کامیابی نہیں ہے۔ اصل کامیابی تب ہے جب آپ سمجھ سکیں کہ چیزیں کام کیسے کرتی ہیں۔"
زہرا نے توجہ سے سنا۔
"جی سر، اب سمجھ آ گئی۔"
عامر نے مسکرا کر کہا:
"اچھی بات ہے۔ سوال پوچھنے سے کبھی نہ گھبرائیں۔"
"جی سر۔"
چند لمحے خاموشی رہی۔
پھر زہرا نے احترام سے کہا:
"سر، آپ بہت اچھا پڑھاتے ہیں۔"
عامر نے سادگی سے جواب دیا:
"اچھا استاد وہ نہیں جو سب کچھ بتا دے، بلکہ وہ ہے جو طالب علم کو خود سیکھنے کا راستہ دکھا دے۔"
زہرا نے سر جھکا دیا۔
"جی سر۔"
اور وہ کلاس سے باہر نکل گئی۔
راہداری میں فیروز خان کھڑے تھے۔
انہوں نے مسکرا کر پوچھا:
"کلاس کیسی رہی؟"
زہرا نے جواب دیا:
"اچھی تھی سر۔"
فیروز نے مذاقاً کہا:
"عامر سر کا پہلا لیکچر مشکل تو نہیں لگا؟"
زہرا نے فوراً کہا:
"نہیں سر، وہ بہت آسان طریقے سے سمجھاتے ہیں۔"
فیروز مسکرائے۔
"عامر کی یہی خاص بات ہے۔"
زہرا خاموش ہو گئی۔
فیروز نے پوچھا:
"کیا ہوا؟"
"کچھ نہیں سر۔"
وہ بس اتنا ہی کہہ سکی۔
کیونکہ کچھ احساسات ایسے ہوتے ہیں جنہیں الفاظ کی ضرورت نہیں ہوتی۔
وہ بس دل کے کسی کونے میں خاموشی سے جگہ بنا لیتے ہیں۔
اور زہرا جبین کو ابھی معلوم نہیں تھا...
کہ یہ کہانی ابھی صرف ایک تعارف تھی۔
اصل داستان ابھی باقی تھی۔
حصہ چہارم
خواب کی ایک خاموش دنیا
رات اپنی گہری چادر پھیلا چکی تھی۔
کمرے میں ہلکی سی روشنی تھی، کتابیں میز پر بکھری ہوئی تھیں اور زہرا جبین اپنی تھکن کے باعث آہستہ آہستہ نیند کی وادی میں اتر رہی تھی۔
اس کے ذہن میں دن بھر کے مناظر گردش کر رہے تھے۔
نئی کلاس۔
نئے لوگ۔
اور ایک ایسی شخصیت جس کی باتوں میں عجیب سا سکون تھا۔
پھر خواب نے حقیقت کے دروازے پر دستک دی۔
وہ خود کو ایک وسیع میدان میں کھڑا پاتی ہے۔
ہر طرف خاموشی تھی۔
ہوا پھولوں کی خوشبو لیے گزر رہی تھی۔
اور دور عامر بلال کھڑے تھے۔
نہ کوئی شور۔
نہ کوئی سوال۔
بس ایک پرسکون سا منظر۔
زہرا چند لمحے خاموش رہی۔
عامر نے نرم لہجے میں کہا:
"زہرا، کبھی کبھی انسان کو اپنے راستے خود بنانا پڑتے ہیں۔"
زہرا نے حیرت سے پوچھا:
"اور اگر راستہ مشکل ہو تو؟"
عامر نے مسکرا کر جواب دیا:
"پھر انسان کو اپنے حوصلے کو راستہ بنانا پڑتا ہے۔"
وہ دونوں خاموشی سے گھاس پر بیٹھ گئے۔
زہرا نے آہستہ سے کہا:
"آپ ہمیشہ اتنی گہری باتیں کیسے کر لیتے ہیں؟"
عامر نے آسمان کی طرف دیکھا۔
"کیونکہ زندگی نے مجھے بہت کچھ سکھایا ہے۔"
"کیا زندگی ہمیشہ اتنی سخت ہوتی ہے؟"
ایک لمحے کے لیے عامر کی آنکھوں میں اداسی اتر آئی۔
"نہیں... زندگی سخت نہیں ہوتی، بس کبھی کبھی انسان کو مضبوط بنانے کے لیے آزماتی ہے۔"
زہرا ان الفاظ میں چھپی کہانی محسوس کرنے لگی۔
اسے لگا جیسے وہ کسی چہرے کو نہیں، ایک پوری داستان کو سمجھنے کی کوشش کر رہی ہو۔
خواب کی دنیا میں بھی عامر بلال کی شخصیت ویسی ہی تھی۔
خاموش۔
مہذب۔
اور ایک ایسے انسان کی طرح جس کے اندر بہت سے ان کہے راز دفن ہوں۔
زہرا نے دھیمی آواز میں کہا:
"کچھ لوگ بغیر کچھ کہے بھی یاد رہ جاتے ہیں۔"
عامر نے مسکرا کر جواب دیا:
"شاید کیونکہ ان کی باتیں دل تک پہنچ جاتی ہیں۔"
زہرا خاموش ہو گئی۔
وہ کچھ کہنا چاہتی تھی، مگر الفاظ نہ ملے۔
کیونکہ کچھ احساسات ایسے ہوتے ہیں جو زبان سے پہلے انسان کے دل میں جنم لیتے ہیں۔
اچانک...
کمرے میں ایک ہلکی سی آواز آئی۔
زہرا کی آنکھ کھل گئی۔
وہ چند لمحے حیران بیٹھی رہی۔
اس نے اردگرد دیکھا۔
کمرہ خاموش تھا۔
کوئی نہیں تھا۔
صرف ایک چھوٹی سی بلی میز کے قریب بیٹھی اسے دیکھ رہی تھی۔
زہرا نے گہری سانس لی۔
پھر آہستہ سے مسکرا دی۔
"میں بھی نہ... خوابوں کو حقیقت سمجھنے لگی۔"
اس نے اپنے چہرے پر ہاتھ پھیرا اور کتاب اٹھا لی۔
کچھ لمحے بعد اس نے خود سے کہا:
"خواب خوبصورت ہو سکتے ہیں، مگر حقیقت میں انسان کو اپنی محنت سے پہچان بنانی ہوتی ہے۔"
اور پھر وہ اپنے ہوم ورک میں مصروف ہو گئی۔
مگر اس رات ایک بات اس کے دل میں رہ گئی...
کبھی کبھی کسی انسان کی شخصیت ہمیں بدلنے لگتی ہے، بغیر اس کے کہ وہ خود اس بات سے واقف ہو۔
حصہ پنجم
دل کا سبق
اگلی صبح سورج اپنی سنہری روشنی کے ساتھ شہر کو جگا رہا تھا۔
زہرا جبین معمول کے مطابق اپنی کتابیں لیے اسکول پہنچی۔ اب نیا ماحول اتنا اجنبی نہیں لگتا تھا۔ کچھ چہرے مانوس ہو چکے تھے، کچھ راستے یاد ہو گئے تھے۔
راہداری میں چلتے ہوئے اس کی ملاقات عائشہ سے ہوئی۔
عائشہ نے مسکرا کر کہا:
"زہرا! تم آج کافی جلدی آ گئی ہو۔"
زہرا نے مسکرا کر جواب دیا:
"ہاں، سوچا آج کام پہلے مکمل کر لوں گی۔ کل کا ہوم ورک بھی باقی تھا۔"
عائشہ نے ہنستے ہوئے کہا:
"تم بہت سنجیدہ ہو۔ پہلے دن سے ہی ہر چیز مکمل۔"
زہرا نے کتابیں درست کرتے ہوئے کہا:
"پڑھائی میں لاپرواہی اچھی نہیں لگتی۔"
عائشہ نے آنکھیں گھمائیں۔
"ہمارے کچھ ٹیچرز بھی یہی کہتے ہیں۔"
زہرا مسکرا دی۔
"ویسے تمہیں کون سا مضمون زیادہ پسند ہے؟"
عائشہ نے سوچتے ہوئے کہا:
"مجھے اردو اچھی لگتی ہے، کیونکہ کہانیوں میں احساسات ہوتے ہیں۔"
پھر اس نے پوچھا:
"تمہیں؟"
"مجھے سائنس پسند ہے۔"
"کیمسٹری؟"
زہرا نے ہلکی آواز میں کہا:
"اور بائیولوجی بھی۔ چیزوں کو سمجھنا اچھا لگتا ہے کہ زندگی کیسے کام کرتی ہے۔"
عائشہ نے مسکرا کر کہا:
"پھر آج کی کلاس تمہاری پسندیدہ ہوگی۔"
"کیوں؟"
"آج بائیولوجی ہے نا۔"
کلاس روم کا دروازہ کھلا۔
اندر صرف چند طلبہ موجود تھے۔
بائیولوجی کی کلاس میں صرف پانچ طالب علم تھے۔
زہرا نے جیسے ہی دروازہ کھولا، اس کی نظر سامنے گئی۔
عامر بلال آج سیاہ کُرتے شلوار میں کرسی پر بیٹھے تھے۔
سامنے تین لڑکے بیٹھے تھے۔
زہرا چند لمحے رکی، پھر خاموشی سے اندر آئی۔
کلاس میں وہ واحد لڑکی تھی۔
وہ سیدھی آگے گئی اور عامر بلال کے سامنے والی نشست پر بیٹھ گئی، مگر مناسب فاصلے پر۔
عامر بلال نے کتاب کھولی۔
"آج ہم انسانی جسم کے ایک اہم حصے کے بارے میں بات کریں گے۔"
انہوں نے بورڈ پر لکھا:
Heart — The Human Heart
"دل صرف ایک عضو نہیں، بلکہ پورے جسم کے نظام کا ایک بنیادی حصہ ہے۔"
ایک طالب علم نے سوال کیا:
"سر، دل دن رات بغیر رکے کیسے کام کرتا ہے؟"
عامر بلال نے مسکرا کر جواب دیا:
"کیونکہ اس کا کام زندگی کو جاری رکھنا ہے۔"
پھر انہوں نے وضاحت کی:
"دل خون کو پورے جسم میں پہنچاتا ہے۔ ہر خلیے کو آکسیجن اور ضروری چیزیں ملتی ہیں تاکہ جسم اپنا کام کر سکے۔"
زہرا غور سے سن رہی تھی۔
عامر بلال نے کہا:
"بائیولوجی ہمیں صرف جسم کے بارے میں نہیں بتاتی، بلکہ ہمیں یہ سمجھاتی ہے کہ زندگی کتنی منظم ہے۔"
ایک اور طالب علم نے پوچھا:
"سر، اگر دل کمزور ہو جائے تو؟"
عامر نے جواب دیا:
"پھر پورا نظام متاثر ہوتا ہے۔ اسی لیے صحت، احتیاط اور توازن ضروری ہیں۔"
کلاس خاموشی سے جاری رہی۔
چالیس منٹ گزر گئے۔
گھنٹی بجی۔
عامر بلال نے کتاب بند کی۔
"اگلی بار ہم اس موضوع کو مزید تفصیل سے پڑھیں گے۔"
طلبہ نے سلام کیا اور باہر جانے لگے۔
بریک کا وقت تھا۔
زہرا اپنی دوست طیّبہ کو تلاش کر رہی تھی۔
کچھ ہی دنوں میں طیّبہ اس کی قریبی دوست بن گئی تھی۔
وہ صحن کے ایک کونے میں بیٹھی ملی۔
"طیبہ!"
طیبہ نے سر اٹھایا اور مسکرا دی۔
"زہرا! ادھر آؤ، میں کب سے تمہیں ڈھونڈ رہی تھی۔"
زہرا بیٹھ گئی۔
"آج بائیولوجی کی کلاس تھی۔"
طیبہ نے فوراً کہا:
"اچھا؟ کیسی رہی؟"
زہرا نے کہا:
"اچھی تھی۔"
طیبہ نے شرارت سے پوچھا:
"عامر بلال سر کی کلاس تھی نا؟"
زہرا نے چونک کر دیکھا۔
"ہاں، کیوں؟"
طیبہ ہنس دی۔
"کچھ نہیں، بس سب کہتے ہیں وہ اچھا پڑھاتے ہیں۔"
زہرا نے کتاب کھولی۔
"ہاں، وہ واقعی اچھا سمجھاتے ہیں۔"
طیبہ نے کہا:
"ان کا انداز باقی ٹیچرز سے مختلف ہے۔"
زہرا نے آہستہ سے جواب دیا:
"کیونکہ وہ صرف جواب نہیں دیتے، سوچنا سکھاتے ہیں۔"
طیبہ نے غور سے اسے دیکھا۔
"تم نے تو بہت جلدی نوٹس کر لیا۔"
زہرا نے حیرت سے پوچھا:
"کیا؟"
"کچھ نہیں۔"
طیبہ ہنس دی۔
"ویسے تمہیں معلوم ہے؟"
"کیا؟"
"عامر بلال سر بہت محنتی ہیں۔ کچھ ٹیچرز بتا رہے تھے کہ انہوں نے اپنی زندگی میں بہت مشکلات دیکھی ہیں۔"
زہرا خاموش ہو گئی۔
"واقعی؟"
"ہاں۔"
طیبہ نے کہا:
"شاید اسی لیے ان کے لہجے میں اتنی سنجیدگی ہے۔"
زہرا نے دور کلاس روم کی طرف دیکھا۔
"کچھ لوگ اپنی کہانی خود نہیں سناتے۔"
طیبہ نے پوچھا:
"پھر؟"
زہرا نے آہستہ سے کہا:
"ان کے رویے ان کی کہانی بتا دیتے ہیں۔"
چند لمحے دونوں خاموش رہیں۔
پھر طیبہ نے موضوع بدلتے ہوئے کہا:
"چلو، اب کھانا کھاتے ہیں۔ ورنہ اگلی کلاس میں بھوک لگے گی۔"
زہرا ہنس دی۔
"تم بھی نا۔"
اور دونوں باتیں کرتی ہوئی آگے بڑھ گئیں۔
مگر زہرا کے دل میں ایک خیال ٹھہر گیا تھا۔
کبھی کبھی کسی انسان کی شخصیت ہمیں اس لیے متاثر کرتی ہے کیونکہ وہ ہمیں کچھ بہتر بننے کا احساس دلاتی ہے۔
...اور شاید
یہی کسی اچھے اثر کی پہلی نشانی ہوتی ہے۔
حصہ ششم
خوابوں کی دھند میں
وقت خاموشی سے گزرتا رہا۔
دن مہینوں میں بدل گئے، اور زہرا جبین اب پہلے والی جھجکتی ہوئی لڑکی نہیں رہی تھی۔
وہ اٹھارہ برس کی ہو چکی تھی۔
مگر کچھ احساسات ایسے ہوتے ہیں جنہیں انسان جتنا چھپانے کی کوشش کرے، وہ اتنے ہی خاموشی سے دل میں جگہ بنا لیتے ہیں۔
اس رات زہرا اپنی میز کے پاس بیٹھی تھی۔
کتاب کھلی ہوئی تھی، مگر نظریں الفاظ پر نہیں ٹھہرتی تھیں۔
وہ قلم ہاتھ میں لیے جانے کب سے ایک ہی صفحے کو دیکھ رہی تھی۔
پھر اس نے آہستہ سے خود سے کہا:
"مجھے نہیں معلوم یہ کیا احساس ہے..."
وہ خاموش ہو گئی۔
"بس اتنا معلوم ہے کہ کچھ لوگ اپنی باتوں سے دل پر اثر چھوڑ جاتے ہیں۔"
اس نے کھڑکی سے باہر دیکھا۔
"عامر بلال سر..."
نام زبان پر آیا تو وہ خود ہی رک گئی۔
"نہیں... یہ صرف ایک خیال ہے۔"
اس نے کتاب بند کی۔
"شاید میں ان کی شخصیت سے متاثر ہوں، ان کے الفاظ سے، ان کے صبر سے۔"
وہ میز پر سر رکھ کر بیٹھ گئی۔
آہستہ آہستہ نیند نے اسے اپنی آغوش میں لے لیا۔
خوابوں کی دنیا میں منظر بدل چکا تھا۔
وہ ایک خاموش باغ میں کھڑی تھی۔
ہلکی ہوا چل رہی تھی، درختوں کے پتے سرگوشیاں کر رہے تھے۔
سامنے عامر بلال تھے۔
وہی پرسکون انداز، وہی ٹھہرا ہوا لہجہ۔
زہرا نے حیرت سے پوچھا:
"یہ جگہ کہاں ہے؟"
عامر نے مسکرا کر کہا:
"کبھی کبھی خواب ہمیں ایسی جگہ لے جاتے ہیں جہاں ہم اپنے خیالات کو سمجھ سکیں۔"
زہرا خاموش رہی۔
پھر بولی:
"آپ ہمیشہ اتنے مطمئن کیسے رہتے ہیں؟"
عامر نے جواب دیا:
"مطمئن نہیں ہوتا، زہرا۔ بس انسان سیکھ لیتا ہے کہ اپنے اندر کے شور کو کیسے خاموش کرنا ہے۔"
وہ دونوں باغ میں چلنے لگے۔
زہرا نے کہا:
"کچھ لوگ اپنی زندگی میں اتنی مشکلات کے باوجود دوسروں کے لیے آسانی کیسے بن جاتے ہیں؟"
عامر نے آہستہ سے جواب دیا:
"شاید اس لیے کہ انہوں نے خود مشکل وقت دیکھا ہوتا ہے۔"
زہرا نے نظریں جھکا لیں۔
"آپ کی باتیں ہمیشہ یاد رہ جاتی ہیں۔"
عامر نے مسکرا کر کہا:
"تو پھر ان باتوں کو اپنی طاقت بنانا، کسی انسان سے وابستگی نہیں۔"
زہرا نے حیرت سے دیکھا۔
"کیا مطلب؟"
"مطلب یہ کہ اچھے الفاظ انسان کو بہتر بناتے ہیں۔"
وہ خاموش ہو گئی۔
خواب میں بھی عامر بلال کی شخصیت ایک رہنمائی کی طرح تھی۔
ایک ایسا احساس جو اسے خود کو سمجھنے کی طرف لے جا رہا تھا۔
پوری رات وہ خوابوں کے اسی منظر میں بھٹکتی رہی۔
صبح اچانک الارم کی آواز سے اس کی آنکھ کھل گئی۔
زہرا نے گھبرا کر آنکھیں کھولیں۔
کمرہ ویسا ہی تھا۔
خاموش۔
حقیقت میں واپس آتے ہی وہ کچھ لمحے چھت کو دیکھتی رہی۔
پھر آہستہ سے مسکرا دی۔
"صرف خواب تھا..."
وہ اٹھ گئی۔
کمرے کی کھڑکی کھولی اور تازہ ہوا اندر آنے دی۔
پھر وہ نہانے کے لیے چلی گئی۔
کچھ دیر بعد وہ تیار ہو کر باہر آئی۔
اسکول کی یونیفارم درست کی، کتابیں اٹھائیں اور نیچے چلی گئی۔
ناشتے کی میز پر اس کی والدہ بیٹھی تھیں۔
انہوں نے زہرا کو دیکھا تو فوراً بولیں:
"زہرا، تم نے کھانا ٹھیک سے کھانا شروع کیا بھی ہے یا نہیں؟"
زہرا نے حیرانی سے پوچھا:
"کیا ہوا امی؟"
امی نے پریشانی سے کہا:
"تم دن بدن کمزور لگ رہی ہو۔ پڑھائی اور مصروفیت میں خود کو بھول جاتی ہو۔"
زہرا نے ہلکی مسکراہٹ کے ساتھ کہا:
"امی، میں ٹھیک ہوں۔"
"نہیں، مائیں سب سمجھ جاتی ہیں۔"
وہ پلیٹ اس کی طرف کرتے ہوئے بولیں:
"پورا ناشتہ کرنا ہے۔ صرف چائے سے زندگی نہیں چلتی۔"
زہرا ہنس دی۔
"جی امی۔"
"اور وقت پر کھانا کھایا کرو۔ کتابیں اپنی جگہ، صحت اپنی جگہ۔"
"جی، وعدہ۔"
تقریباً ایک گھنٹے بعد زہرا دوبارہ اسکول کے راستے پر تھی۔
اس کے ہاتھ میں کتابیں تھیں۔
دل میں کئی سوال۔
اور ذہن میں ایک بات...
کچھ خواب انسان کو حقیقت سے دور نہیں لے جاتے۔
بلکہ کبھی کبھی وہ ہمیں اپنے اندر چھپے احساسات کو سمجھنے کا موقع دیتے ہیں۔
حصہ ہفتم
ایک ان کہی بات
ایسا لگتا تھا جیسے زہرا کی دنیا چند حصوں میں تقسیم ہو گئی ہو۔
صبح...
اسکول۔
کلاس روم۔
اور عامر بلال کی موجودگی کا احساس۔
شام...
ان کے الفاظ کی بازگشت۔
رات...
خوابوں کی دنیا۔
اور پھر وہی سوال...
آخر یہ کیا تھا؟
وہ خود بھی نہیں سمجھ پا رہی تھی۔
کچھ دن بعد زہرا اور طیّبہ اسکول کے باغ میں بیٹھی تھیں۔
ہلکی ہوا چل رہی تھی اور دونوں اپنی کتابیں ایک طرف رکھ کر باتوں میں مصروف تھیں۔
طیبہ نے زہرا کو غور سے دیکھا۔
"تم بدل گئی ہو۔"
زہرا نے حیرت سے پوچھا:
"میں؟ کیسے؟"
طیبہ نے مسکرا کر کہا:
"پہلے تم ہر بات پر فوراً جواب دیتی تھیں، اب اکثر خاموش ہو جاتی ہو۔"
زہرا نے نظریں جھکا لیں۔
"بس سوچتی زیادہ ہوں۔"
"اور یہ سوچیں کس کے بارے میں ہوتی ہیں؟"
زہرا نے فوراً کہا:
"طیبہ!"
طیبہ ہنس پڑی۔
"میں نے نام بھی نہیں لیا۔"
زہرا خاموش ہو گئی۔
کچھ لمحوں بعد آہستہ سے بولی:
"کبھی کبھی کوئی انسان اپنی باتوں سے بہت اثر چھوڑ دیتا ہے۔"
طیبہ نے نرمی سے پوچھا:
"عامر بلال سر؟"
زہرا نے جواب نہیں دیا۔
خاموشی ہی جواب بن گئی۔
طیبہ نے کہا:
"تو پھر بات کر لو۔"
زہرا چونک گئی۔
"کیا؟"
"جو تم محسوس کرتی ہو، کہہ دو۔"
زہرا نے فوراً سر اٹھایا۔
"نہیں، طیبہ۔"
"کیوں؟"
"کیونکہ ہر احساس کا اظہار ضروری نہیں ہوتا۔"
طیبہ نے کہا:
"لیکن دل میں رکھ کر بھی تو انسان پریشان ہوتا ہے۔"
زہرا نے گہرا سانس لیا۔
"مجھے ڈر لگتا ہے کہ کہیں میں اپنے احترام کو غلط نہ سمجھ لوں۔"
طیبہ کچھ دیر خاموش رہی۔
پھر بولی:
"تم ہمیشہ ہر چیز کو اتنا سوچتی کیوں ہو؟"
زہرا نے ہلکی مسکراہٹ دی۔
"کیونکہ کچھ چیزیں دل سے زیادہ عقل سے سنبھالنی پڑتی ہیں۔"
طیبہ نے کہا:
"پھر بھی... کبھی کبھی انسان کو اپنے دل کی بات سننی چاہیے۔"
زہرا نے آہستہ سے جواب دیا:
"اور کبھی کبھی دل کو سمجھانا چاہیے۔"
اسی دوران فیروز خان وہاں سے گزر رہے تھے۔
انہوں نے دونوں کو دیکھا تو مسکرا کر بولے:
"کیا بات ہے؟ آج تو بہت سنجیدہ مجلس لگی ہوئی ہے۔"
طیبہ فوراً بولی:
"سر، زہرا بہت سوچتی ہے۔"
فیروز ہنس دیے۔
"یہ تو اچھی بات ہے۔ جو لوگ سوچتے ہیں، وہ بہتر فیصلے کرتے ہیں۔"
زہرا نے مسکرا کر کہا:
"سر، آپ بھی نا ہر بات کو سبق بنا دیتے ہیں۔"
فیروز نے مذاقاً کہا:
"آخر اردو کا استاد ہوں، الفاظ سے کام لینا آتا ہے۔"
طیبہ ہنس پڑی۔
"سر، آپ ہمیشہ اتنے دوستانہ رہتے ہیں؟"
فیروز نے جواب دیا:
"استاد اگر صرف ڈانٹے تو طالب علم صرف خوف سیکھتا ہے۔ کبھی کبھی بات کرنا بھی ضروری ہوتا ہے۔"
پھر انہوں نے زہرا کی طرف دیکھا۔
"مگر یاد رکھو، زندگی میں ہر رشتے کی اپنی حد اور اپنی عزت ہوتی ہے۔"
زہرا چند لمحے خاموش رہی۔
کیونکہ وہ بات سیدھی دل تک پہنچی تھی۔
رات ہو چکی تھی۔
ہاسٹل کی چھت پر آسمان ستاروں سے بھرا ہوا تھا۔
عامر بلال اور فیروز خان دو کرسیوں پر بیٹھے تھے۔
ہاتھ میں چائے کے کپ تھے۔
کچھ دیر دونوں خاموش رہے۔
پھر فیروز نے آہستہ سے کہا:
"عامر..."
"ہاں؟"
"مجھے تم سے ایک بات کرنی ہے۔"
عامر نے اسے دیکھا۔
"کیا ہوا؟"
فیروز چند لمحے رکا۔
"زہرا کے بارے میں۔"
عامر کے چہرے پر حیرت آئی۔
"کیا مطلب؟"
فیروز نے گہرا سانس لیا۔
"مجھے لگتا ہے کہ وہ تم سے بہت متاثر ہے۔"
عامر خاموش ہو گیا۔
پھر سنجیدگی سے بولا:
"فیروز، تم کیا کہہ رہے ہو؟"
"میں صرف وہ بتا رہا ہوں جو میں نے محسوس کیا۔"
عامر نے نظریں جھکا لیں۔
"وہ ایک طالبہ ہے۔"
"میں جانتا ہوں۔"
"پھر یہ بات کیوں کر رہے ہو؟"
فیروز نے جواب دیا:
"کیونکہ میں سمجھتا ہوں کہ تمہیں حقیقت معلوم ہونی چاہیے۔"
عامر کی آواز سخت ہو گئی۔
"حقیقت یہ ہے کہ ایک استاد کی ذمہ داری صرف پڑھانا نہیں، بلکہ طلبہ کے جذبات کو درست سمت دینا بھی ہے۔"
فیروز نے کہا:
"میں تمہیں غلط نہیں کہہ رہا۔"
عامر نے جواب دیا:
"لیکن یہ بات میرے لیے معمولی نہیں ہے، فیروز۔"
کچھ لمحوں کی خاموشی چھا گئی۔
فیروز نے کہا:
"تم ہر چیز کا بوجھ اپنے اوپر لے لیتے ہو۔"
عامر نے آہستہ آواز میں کہا:
"کیونکہ میں جانتا ہوں کہ ایک غلط قدم کتنی زندگیاں بدل سکتا ہے۔"
فیروز نے اسے دیکھا۔
"تم ہمیشہ اتنے محتاط کیوں رہتے ہو؟"
عامر نے ستاروں کی طرف دیکھا۔
"کیونکہ میں نے اپنی زندگی میں بہت کچھ کھویا ہے۔"
"اور اب؟"
"اب میں کسی اور کی زندگی میں الجھن نہیں بننا چاہتا۔"
فیروز خاموش ہو گیا۔
پھر بولا:
"شاید تم ٹھیک کہہ رہے ہو۔"
عامر نے نرم لہجے میں کہا:
"زہرا ایک اچھی طالبہ ہے۔ اسے اپنے خوابوں پر توجہ دینی چاہیے۔"
فیروز نے سر ہلایا۔
"اور تم؟"
عامر نے ہلکی مسکراہٹ کے ساتھ کہا:
"میں بھی یہی چاہتا ہوں کہ وہ کامیاب ہو۔"
رات گہری ہوتی گئی۔
ستارے وہیں تھے۔
مگر دونوں جانتے تھے کہ کچھ باتیں وقت کے ساتھ خود اپنا جواب تلاش کر لیتی ہیں۔
حصہ ہشتم
خاموشی کا زخم
کبھی کبھی انسان کو کسی کے بدلتے ہوئے رویے سے زیادہ تکلیف کسی اور چیز سے نہیں ہوتی۔
کیونکہ لفظوں کا زخم وقت کے ساتھ بھر سکتا ہے۔
مگر خاموشی...
وہ آہستہ آہستہ انسان کے اندر اترتی ہے۔
زہرا جبین بھی انہی دنوں سے گزر رہی تھی۔
عامر بلال بدل گئے تھے۔
پہلے وہ کلاس میں اس کے سوالوں کا جواب دیتے تھے۔
پہلے ان کے لہجے میں وہی نرمی ہوتی تھی۔
مگر اب...
ایک فاصلے کی دیوار کھڑی ہو گئی تھی۔
وہ سب سے بات کرتے، مگر زہرا سے صرف ضرورت کے مطابق۔
وہ اسے نظر انداز نہیں کرتے تھے۔
مگر وہ پہلے جیسے بھی نہیں رہے تھے۔
اور یہی چیز زہرا کو اندر سے توڑ رہی تھی۔
ایک دن زہرا اور طیّبہ کلاس کے بعد ایک خالی کمرے کے باہر بیٹھی تھیں۔
زہرا خاموش تھی۔
اس کی آنکھیں نم تھیں۔
طیبہ نے غور سے دیکھا۔
"زہرا..."
کوئی جواب نہ آیا۔
"زہرا، مجھ سے بات کرو۔"
اچانک زہرا کی آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے۔
"طیبہ..."
اس کی آواز کانپ رہی تھی۔
"میں سمجھ نہیں پا رہی۔"
طیبہ نے فوراً اس کا ہاتھ تھاما۔
"کیا ہوا؟"
زہرا نے آنسو پونچھتے ہوئے کہا:
"وہ بدل گئے ہیں۔"
"کون؟"
زہرا خاموش رہی۔
طیبہ سب سمجھ گئی۔
"عامر سر؟"
زہرا نے آہستہ سے سر ہلا دیا۔
"پہلے جب میں سوال کرتی تھی تو وہ آرام سے سمجھاتے تھے۔"
اس کی آواز ٹوٹ گئی۔
"اب ایسا لگتا ہے جیسے میری موجودگی بھی انہیں پریشان کرتی ہے۔"
طیبہ نے کہا:
"شاید تم زیادہ سوچ رہی ہو۔"
زہرا نے فوراً جواب دیا:
"نہیں طیبہ..."
"میں ان کی باتوں کو نہیں، ان کی خاموشی کو محسوس کر رہی ہوں۔"
وہ رو پڑی۔
"مجھے سمجھ نہیں آتا میں نے کیا غلط کیا ہے۔"
طیبہ نے نرمی سے کہا:
"تم نے کچھ غلط نہیں کیا۔"
زہرا نے آنسوؤں کے درمیان کہا:
"پھر وہ اتنے دور کیوں ہو گئے؟"
کچھ لمحے خاموشی رہی۔
پھر زہرا نے دھیمی آواز میں کہا:
"ایسا لگتا ہے جیسے کوئی میرے اندر سے کچھ کاٹ رہا ہو..."
طیبہ نے اسے گلے لگا لیا۔
"زہرا، کبھی کبھی لوگ دور اس لیے نہیں ہوتے کہ ہم غلط ہوتے ہیں۔"
"پھر؟"
"کبھی کبھی وہ کسی وجہ سے خود فاصلے بنا لیتے ہیں۔"
زہرا نے سر اٹھایا۔
"لیکن وجہ تو ہونی چاہیے نا؟"
طیبہ کے پاس کوئی جواب نہیں تھا۔
کچھ دن اسی طرح گزر گئے۔
زہرا کی برداشت ختم ہونے لگی۔
آخر ایک دن اس نے فیصلہ کیا کہ وہ خاموش نہیں رہے گی۔
کلاس کے بعد جب سب طلبہ چلے گئے تو وہ وہیں رک گئی۔
عامر بلال کتابیں ترتیب دے رہے تھے۔
"سر..."
عامر نے سر اٹھایا۔
"جی زہرا؟"
وہ چند لمحے خاموش رہی۔
پھر بولی:
"کیا میں آپ سے کچھ پوچھ سکتی ہوں؟"
"جی۔"
زہرا نے ہمت کی۔
"آپ مجھ سے پہلے کی طرح بات کیوں نہیں کرتے؟"
عامر خاموش ہو گئے۔
"سر، میں نے کوئی غلطی کی ہے؟"
"نہیں۔"
"پھر؟"
خاموشی۔
زہرا کی آنکھوں میں نمی آ گئی۔
"آپ اتنے بدل کیوں گئے ہیں؟"
عامر نے نظریں جھکا لیں۔
"زہرا، کچھ فاصلے ضروری ہوتے ہیں۔"
یہ جواب اس کے لیے اور زیادہ تکلیف دہ تھا۔
"ضروری؟"
اس نے دھیمی آواز میں کہا۔
"کس کے لیے سر؟"
عامر خاموش رہے۔
زہرا نے کہا:
"آپ پہلے میری بات سنتے تھے۔"
"آپ پہلے مجھے ایک عام طالب علم کی طرح سمجھاتے تھے۔"
"اب ایسا لگتا ہے جیسے آپ مجھ سے بچ رہے ہیں۔"
عامر کی آواز نرم تھی۔
"ایسا نہیں ہے۔"
"تو پھر کیا ہے؟"
عامر کے پاس جواب تھا۔
مگر وہ کہہ نہیں سکتے تھے۔
آخر انہوں نے صرف اتنا کہا:
"اپنی پڑھائی پر توجہ دو، زہرا۔"
یہ سن کر زہرا کی آنکھوں میں درد اتر آیا۔
وہ خاموشی سے وہاں سے چلی گئی۔
وہ سیدھی فیروز خان کے پاس گئی۔
فیروز اسٹاف روم میں بیٹھے تھے۔
زہرا کو دیکھ کر فوراً سمجھ گئے کہ کچھ ہوا ہے۔
"زہرا؟ کیا بات ہے؟"
وہ کچھ لمحے خاموش رہی۔
پھر بولی:
"سر، آپ نے عامر سر سے بات کی تھی؟"
فیروز کے چہرے پر حیرت آئی۔
"کیا؟"
"آپ نے ان سے کچھ کہا تھا؟"
خاموشی۔
زہرا کی آنکھیں بھر آئیں۔
"مجھے سچ بتائیں سر۔"
فیروز نے گہرا سانس لیا۔
"زہرا..."
"آپ نے انہیں میرے بارے میں بتایا تھا نا؟"
فیروز خاموش ہو گئے۔
اور یہی خاموشی جواب تھی۔
زہرا کی آنکھوں سے آنسو نکل آئے۔
"آپ نے کیوں کیا سر؟"
فیروز نے آہستہ سے کہا:
"میں نے سوچا حقیقت جاننا بہتر ہوگا۔"
زہرا نے دکھ سے کہا:
"لیکن میری حقیقت تو میرے دل میں تھی۔"
"آپ نے اسے میری اجازت کے بغیر کسی کے سامنے رکھ دیا۔"
فیروز کے پاس کوئی جواب نہیں تھا۔
پھر زہرا نے پوچھا:
"انہوں نے کیا کہا؟"
فیروز نے نظریں جھکا لیں۔
"انہوں نے تمہارے احساسات کو رد نہیں کیا..."
زہرا حیران ہوئی۔
"پھر؟"
"انہوں نے کہا کہ یہ درست راستہ نہیں ہے۔"
زہرا خاموش ہو گئی۔
اس کے اندر کچھ ٹوٹا۔
"تو وہ مجھ سے دور اسی لیے ہو گئے؟"
فیروز نے آہستہ سے کہا:
"عامر ایسا انسان نہیں جو کسی کے جذبات کا مذاق اڑائے۔"
"وہ بس ذمہ داری سمجھتا ہے۔"
زہرا کی آواز بھاری تھی۔
"لیکن سر..."
"دل کو کون سمجھائے؟"
فیروز خاموش رہے۔
کیونکہ کچھ سوالوں کے جواب انسان کے پاس نہیں ہوتے۔
صرف وقت کے پاس ہوتے ہیں۔
اور اس رات زہرا نے پہلی بار جانا...
کہ کبھی کبھی کسی کو کھونا ضروری نہیں ہوتا۔
کبھی کبھی صرف فاصلے ہی کافی ہوتے ہیں۔
حصہ نہم
فاصلے کی خاموش چیخ
اس دن کے بعد زہرا نے عامر بلال سے دوبارہ کچھ نہیں کہا۔
نہ کوئی سوال۔
نہ کوئی شکایت۔
نہ کوئی ایسی کوشش جس سے اسے لگے کہ وہ ان کی حدود کو توڑ رہی ہے۔
اس نے خود کو سمجھایا تھا کہ شاید یہی بہتر ہے۔
مگر جو چیز انسان زبان سے روک لیتا ہے...
دل اسے روک نہیں پاتا۔
عامر بلال پہلے سے بھی زیادہ خاموش ہو گئے تھے۔
وہ برا رویہ نہیں رکھتے تھے۔
نہ سختی کرتے تھے۔
مگر ایک فاصلہ تھا جو ہر دن بڑھتا جا رہا تھا۔
وہ زہرا کی طرف دیکھتے بھی نہیں تھے۔
کلاس میں صرف سبق۔
صرف کتاب۔
صرف ضرورت کی بات۔
نہ کوئی معمولی گفتگو۔
نہ کوئی مسکراہٹ۔
اور یہی چیز زہرا کے لیے سب سے زیادہ تکلیف دہ تھی۔
ایک دن لیکچر ختم ہونے کے بعد ایک خالی کلاس میں زہرا بیٹھی تھی۔
طیبہ اس کے پاس موجود تھی۔
زہرا کی آنکھیں مسلسل آنسو بہا رہی تھیں۔
طیبہ نے پریشانی سے کہا:
"زہرا، پلیز خود کو اتنا مت تکلیف دو۔"
مگر زہرا جیسے اپنے اندر کے درد میں گم تھی۔
"طیبہ..."
اس کی آواز ٹوٹ رہی تھی۔
"میں نے کیا مانگا تھا؟"
طیبہ خاموش رہی۔
زہرا نے آنسو پونچھتے ہوئے کہا:
"میں نے کبھی نہیں کہا کہ وہ میرے ہو جائیں۔"
"میں نے تو بس چاہا تھا کہ وہ پہلے جیسے رہیں۔"
اس کی آواز کانپ گئی۔
"لیکن اب تو لگتا ہے جیسے میں ان کے لیے کوئی ہوں ہی نہیں۔"
طیبہ نے اس کا ہاتھ تھاما۔
"زہرا..."
زہرا روتے ہوئے بولی:
"مجھے ان سے بات کرنے کا دل کرتا ہے۔"
"مجھے ان کی آواز سننے کا دل کرتا ہے۔"
"لیکن میں جانتی ہوں کہ وہ نہیں چاہتے۔"
اس نے آنکھیں بند کر لیں۔
"میں انہیں پریشان نہیں کرنا چاہتی۔"
طیبہ کی آنکھیں بھی نم ہو گئیں۔
"تم خود کو کیوں سزا دے رہی ہو؟"
زہرا نے دھیمی آواز میں کہا:
"کیونکہ دل کو سمجھانا آسان نہیں ہوتا، طیبہ۔"
"کبھی کبھی انسان جسے بھولنا چاہتا ہے، وہی خیال بن کر ہر جگہ ساتھ چلتا ہے۔"
تقریباً ایک گھنٹے بعد زہرا نے اپنے آنسو صاف کیے۔
اس نے گہرا سانس لیا۔
"مجھے کلاس میں جانا ہے۔"
طیبہ نے حیرت سے دیکھا۔
"ابھی؟"
زہرا نے سر ہلایا۔
"زندگی رکتی نہیں ہے۔"
مگر اس کی آواز میں وہی درد چھپا ہوا تھا۔
وہ اٹھ کر چلی گئی۔
مگر جسم کلاس میں تھا...
اور دل کہیں بہت دور۔
دن گزرتے رہے۔
ایک دن زہرا نے دیکھا کہ عامر بلال چند طالبات کو لیکچر کے بارے میں سمجھا رہے تھے۔
وہ معمول کے مطابق نرم انداز میں بات کر رہے تھے۔
"اگر یہ حصہ سمجھ نہیں آیا تو دوبارہ پوچھ لیں۔"
ایک طالبہ نے سوال کیا۔
"سر، یہ والا پوائنٹ؟"
عامر نے جواب دیا:
"جی، دیکھیے یہاں سے سمجھیں..."
یہ ایک عام استاد اور طالب علم کی گفتگو تھی۔
مگر زہرا کے لیے وہ منظر آسان نہیں تھا۔
اس کے دل میں ایک عجیب سا درد اٹھا۔
وہ خود سے ناراض ہونے لگی۔
"وہ سب سے بات کر سکتے ہیں..."
"بس مجھ سے نہیں۔"
یہ خیال اسے اندر سے توڑ رہا تھا۔
آہستہ آہستہ اس کی خاموشی غصے میں بدلنے لگی۔
جب بھی عامر بلال سامنے آتے، وہ نظریں چرا لیتی۔
سوال ہوتا تو بھی خاموش رہتی۔
سلام کا جواب مختصر دیتی۔
عامر نے محسوس کیا۔
پہلے وہ خاموشی سے دور تھے۔
اب زہرا بھی ایک دیوار بنا رہی تھی۔
ایک دن کلاس کے بعد عامر نے اسے روکا۔
"زہرا؟"
وہ رک گئی۔
"جی سر؟"
عامر نے غور سے دیکھا۔
"آپ ناراض ہیں؟"
زہرا حیران ہوئی۔
"نہیں سر۔"
"تو پھر آپ کا رویہ اتنا بدلا ہوا کیوں ہے؟"
وہ خاموش رہی۔
عامر نے نرم لہجے میں کہا:
"پہلے آپ سوال کرتی تھیں۔"
"اب آپ بات کرنے سے بھی گریز کرتی ہیں۔"
زہرا کی آنکھوں میں نمی آ گئی۔
"آپ کو فرق پڑتا ہے؟"
یہ سوال اچانک نکلا تھا۔
عامر خاموش ہو گئے۔
"زہرا..."
"میری حیثیت بس اِک اُستاد جتنی ہے۔"
زہرا نے فوراً کہا:
"بس استاد؟"
خاموشی چھا گئی۔
عامر کے پاس جواب تھا، مگر الفاظ نہیں۔
زہرا کی آواز بھاری ہو گئی۔
"آپ نے فاصلے بنائے۔"
"میں نے قبول کیا۔"
"لیکن پھر جب میں خاموش ہو گئی تو آپ پوچھ رہے ہیں کیوں؟"
عامر نے آہستہ سے کہا:
"کیونکہ میں نہیں چاہتا کہ آپ خود کو تکلیف دیں۔"
زہرا نے دکھ سے مسکرا کر کہا:
"مگر تکلیف تو ہو رہی ہے سر۔"
عامر خاموش رہے۔
"آپ کے بدل جانے سے۔"
کچھ لمحے دونوں خاموش کھڑے رہے۔
پھر عامر نے کہا:
"زہرا، کبھی کبھی فاصلے اس لیے نہیں ہوتے کہ سامنے والا کم اہم ہے۔"
"کبھی کبھی فاصلے اس لیے ہوتے ہیں کیونکہ کچھ حدود کی حفاظت ضروری ہوتی ہے۔"
زہرا کی آنکھوں سے ایک آنسو گر گیا۔
"اور میرے احساسات؟"
عامر نے دھیمی آواز میں کہا:
"ان کی عزت ہے۔"
"مگر آپ کی زندگی ابھی بہت آگے ہے۔"
"آپ کو اپنے خوابوں کو اپنی پہچان بنانا ہے۔"
زہرا نے نظریں جھکا لیں۔
وہ جانتی تھی...
یہ جواب شاید درست تھا۔
مگر دل کو دلیلیں دیر سے سمجھ آتی ہیں۔
اور کچھ فاصلے...
خاموشی سے انسان کو بدل دیتے ہیں۔
حصہ دہم
ایک خواب، ایک دعا
رات بہت خاموش تھی۔
زہرا جبین اپنے بستر پر لیٹی ہوئی تھی۔
آنکھوں سے آنسو رکنے کا نام نہیں لے رہے تھے۔
وہ کسی سے ناراض نہیں تھی۔
بس تھک گئی تھی...
اپنے دل کو سمجھاتے سمجھاتے۔
وہ آہستہ سے بولی:
"کاش دل کو بھی کبھی حکم دیا جا سکتا..."
"کاش انسان کسی احساس کو صرف کہہ کر ختم کر سکتا..."
اس نے آنکھیں بند کر لیں۔
اور نیند نے آہستہ آہستہ اسے اپنے حصار میں لے لیا۔
خواب میں وہ ایک خوبصورت وادی میں کھڑی تھی۔
ہر طرف خاموشی تھی۔
ایسی خاموشی جس میں درد بھی تھا اور سکون بھی۔
دور عامر بلال کھڑے تھے۔
زہرا کی آنکھوں میں فوراً نمی آ گئی۔
"آپ یہاں بھی آ گئے..."
اس کی آواز بہت دھیمی تھی۔
عامر نے نرمی سے کہا:
"کبھی کبھی انسان جن باتوں کو حقیقت میں نہیں کہہ پاتا، خواب انہیں آواز دے دیتے ہیں۔"
زہرا خاموش رہی۔
پھر آہستہ سے بولی:
"میں نے کبھی نہیں چاہا تھا کہ آپ مجھ سے دور ہو جائیں۔"
عامر نے جواب دیا:
"کچھ فاصلے انسان کی قدر کم نہیں کرتے، زہرا۔"
"پھر اتنی خاموشی کیوں؟"
اس سوال میں بہت درد تھا۔
عامر نے دھیرے سے کہا:
"کیونکہ بعض اوقات خاموشی بھی کسی کی حفاظت کا ذریعہ بن جاتی ہے۔"
زہرا کی آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے۔
"میں بہت مضبوط بننے کی کوشش کر رہی ہوں۔"
"مگر کبھی کبھی دل تھک جاتا ہے۔"
عامر نے کہا:
"دل کا تھک جانا کمزوری نہیں ہوتا۔"
"بس یاد رکھو، اپنے آپ کو کسی ایک احساس میں کھو دینا ضروری نہیں۔"
زہرا نے آسمان کی طرف دیکھا۔
"کیا کوئی انسان کسی کو بھول سکتا ہے؟"
عامر نے مسکرا کر کہا:
"بھولنا ہمیشہ ضروری نہیں ہوتا۔"
"کچھ لوگ یاد رہتے ہیں..."
"مگر ہمیں اپنی زندگی بھی آگے لے کر چلنی ہوتی ہے۔"
اچانک ایک ہلکی سی آواز آئی۔
زہرا کی آنکھ کھل گئی۔
کمرہ پھر وہی تھا۔
خاموش۔
تنہا۔
باہر رات آخری سانسیں لے رہی تھی۔
فجر سے پہلے کا وقت تھا۔
وہ کچھ دیر خاموش بیٹھی رہی۔
پھر آہستہ سے اٹھ گئی۔
وضو کیا۔
اور جائے نماز بچھا لی۔
جب وہ نماز کے لیے کھڑی ہوئی تو اس کے دل میں بہت سی باتیں تھیں۔
مگر زبان پر صرف ایک دعا آئی:
"یا اللہ..."
اس کی آواز کانپ گئی۔
"تو میرے دل کو مجھ سے زیادہ جانتا ہے۔"
"تو میرے آنسو بھی جانتا ہے اور میری خاموشی بھی۔"
سجدے میں جاتے ہی اس کے آنسو زمین پر گرنے لگے۔
"اگر یہ احساس میرے لیے بہتر ہے تو اسے پاکیزہ راستہ عطا فرما۔"
"اور اگر یہ میرے لیے نہیں..."
وہ رک گئی۔
سانس بھاری ہو گئی۔
"تو میرے دل کو سکون عطا فرما۔"
وہ دیر تک سجدے میں رہی۔
اور پہلی بار اسے محسوس ہوا...
کہ کچھ محبتیں انسان کو کسی انسان تک نہیں...
بلکہ اللہ کے قریب لے جانے کا ذریعہ بن جاتی ہیں۔
حصہ گیارہ
آخری دن کی خاموشی
کبھی کبھی زندگی انسان کو الوداع کہنے کا موقع بھی نہیں دیتی۔
نہ آخری ملاقات۔
نہ آخری بات۔
نہ آخری نظر۔
بس ایک دن اچانک سب کچھ بدل جاتا ہے۔
زہرا جبین کو بھی معلوم نہیں تھا کہ وہ دن اس کی زندگی کے یاد رہ جانے والے دنوں میں سے ایک بننے والا ہے۔
صبح ہمیشہ کی طرح شروع ہوئی تھی۔
وہ کتابیں لیے کلاس روم میں داخل ہوئی۔
وہی نشست۔
وہی میز۔
وہی جگہ جہاں سے وہ روز عامر بلال کو پڑھاتے ہوئے دیکھتی تھی۔
مگر آج کچھ مختلف تھا۔
دل میں ایک عجیب سی بے چینی تھی۔
جیسے کوئی چیز خاموشی سے بدلنے والی ہو۔
کچھ دیر بعد دروازہ کھلا۔
زہرا کی نظر فوراً دروازے کی طرف گئی۔
عامر بلال اندر آئے۔
مگر آج ان کے ہاتھ میں صرف کتابیں نہیں تھیں۔
ان کے ساتھ ایک اور استاد بھی تھے۔
کلاس میں خاموشی چھا گئی۔
عامر نے مسکرا کر طلبہ کو دیکھا۔
"السلام علیکم۔"
سب نے جواب دیا۔
"وعلیکم السلام سر۔"
انہوں نے چند لمحے سب کو دیکھا۔
پھر کہا:
"آج میں آپ سب سے ایک نئے استاد کا تعارف کروانا چاہتا ہوں۔"
زہرا کے دل میں ایک انجانا خوف پیدا ہوا۔
نئے استاد؟
کیوں؟
عامر نے سامنے کھڑے استاد کی طرف اشارہ کیا۔
"یہ آپ کے نئے بائیولوجی ٹیچر ہوں گے۔"
کلاس میں کچھ سرگوشیاں ہوئیں۔
ایک طالب علم نے پوچھا:
"سر، کیا آپ اب ہمیں نہیں پڑھائیں گے؟"
عامر کچھ لمحے خاموش رہے۔
پھر نرمی سے بولے:
"ہر سفر کا ایک وقت ہوتا ہے۔"
"اور ہر انسان کی زندگی میں نئے راستے آتے ہیں۔"
ایک اور طالب علم نے کہا:
"لیکن سر، آپ کے بغیر کلاس عجیب لگے گی۔"
عامر مسکرا دیے۔
"آپ لوگ علم کو یاد رکھنا، کسی ایک شخص کو نہیں۔"
یہ جملہ زہرا کے دل میں اتر گیا۔
نئے استاد نے مسکرا کر کہا:
"امید ہے ہم سب مل کر اچھا سفر شروع کریں گے۔"
عامر نے طلبہ کی طرف آخری بار دیکھا۔
"آپ سب محنت کرنا۔"
"کامیابی صرف ذہانت سے نہیں، مستقل مزاجی سے ملتی ہے۔"
پھر ان کی نظر چند لمحوں کے لیے پوری کلاس پر ٹھہری۔
زہرا نے محسوس کیا جیسے وقت رک گیا ہو۔
مگر عامر بلال نے کچھ نہیں کہا۔
نہ کوئی الوداع۔
نہ کوئی آخری بات۔
بس خاموشی۔
اور پھر...
وہ مڑ گئے۔
دروازہ بند ہو گیا۔
نئے استاد نے سبق شروع کیا۔
"آج ہم بائیولوجی کے ایک اہم باب سے آغاز کریں گے۔"
طلبہ کتابیں کھولنے لگے۔
مگر زہرا کی آنکھیں کتاب پر نہیں تھیں۔
اسے کچھ سنائی نہیں دے رہا تھا۔
صرف ایک خیال تھا:
"وہ چلے گئے..."
وہ شخص جو روز اس کلاس کا حصہ تھا۔
اب صرف ایک یاد بن گیا تھا۔
اس کی آنکھوں میں نمی آ گئی۔
طیبہ نے آہستہ سے اس کا ہاتھ دبایا۔
"زہرا..."
مگر زہرا کچھ بول نہ سکی۔
کیونکہ کچھ جدائیاں آواز چھین لیتی ہیں۔
کچھ دیر بعد زہرا نے فیصلہ کیا۔
وہ مزید نہیں بیٹھ سکتی تھی۔
اس نے اجازت لی اور خاموشی سے کلاس سے باہر نکل گئی۔
راستے میں اس کی نظریں بار بار اسی طرف جا رہی تھیں جہاں سے عامر بلال جاتے تھے۔
مگر وہاں کوئی نہیں تھا۔
نہ قدموں کی آواز۔
نہ کوئی سایہ۔
بس ایک خالی راستہ۔
اس دن اس نے آدھی چھٹی لے لی۔
اور گھر چلی گئی۔
بغیر آخری بار دیکھے۔
بغیر آخری لفظ کے۔
صرف ایک خاموشی کے ساتھ۔
گھر پہنچ کر وہ اپنے کمرے میں بیٹھی رہی۔
اسے احساس ہوا کہ انسان اکثر ان لمحوں کی قدر نہیں کرتا جو اس کے پاس ہوتے ہیں۔
ہم سوچتے ہیں کہ کل بات کر لیں گے۔
کل مل لیں گے۔
کل کہہ دیں گے۔
مگر کبھی کبھی وہ "کل" آتا ہی نہیں۔
زندگی کا سب سے بڑا سبق شاید یہی ہے:
کچھ لوگ ہماری زندگی میں ہمیشہ رہنے کے لیے نہیں آتے۔
کچھ لوگ صرف ہمیں کچھ سکھانے آتے ہیں۔
وہ ہمیں صبر سکھاتے ہیں۔
وہ ہمیں خود کو سمجھنا سکھاتے ہیں۔
وہ ہمیں یہ احساس دلاتے ہیں کہ ہر تعلق کا ایک مقام اور ایک وقت ہوتا ہے۔
اور سب سے اہم...
ہمیں کسی انسان کو اپنی پوری دنیا نہیں بنانا چاہیے۔
کیونکہ لوگ بدل سکتے ہیں۔
راستے بدل سکتے ہیں۔
مگر انسان کی اپنی پہچان، اس کی محنت اور اس کا رب...
ہمیشہ ساتھ رہتے ہیں۔
اور شاید یہی زندگی کی اصل حقیقت ہے۔
"مگر ہر سبق کے بعد بھی عامر بلال زہرہ جبیں کے دل کا درد تا قیامت تک کے لیے بن گیا تھا۔"
Wow this novel is a masterpiece of true love hats off to the gentleman who was loyal to his responsibilities while honest with his feelings and hats off to the girl who loved truly , suffered silently and became a symbol of pure love but tragic truth is that some souls are not always destined to stay they are destined to become the turning point of lives which pushes a person to place where he/she is destined for again hats off to both tragic characters of story
ReplyDeletethank you
Delete